جگت موہن لال رواں۔۔۔۔۔رباعی

۔۔۔۔۔رباعی
(1)
دُنیا سو سو طرح سے بہلاتی ہے
سامانِ خوشی سے روح گھبراتی ہے
اب فکر فنا کھول دی ہیں آنکھیں
کلفت ہر بات میں نظر آتی ہے
کلفت :- رنج ،تکلیف
رواں اس رباعی میں فرماتےہیں کہ انسان جوانی کے دنوں بہت خوشی محسوس کرتا ہے اسے دنیا ہر طرح سے اچھی لگتی ہے مگر جب انسا ن کو بڑھاپا آتا ہے تو اسے ہر چیز سے بے زاری پیدا ہوجاتی ہے اور اسے صرف مرنے کی فکر ستاتی ہے
(2)
حرص و ہوسِ حیات ِ فانی نہ گئی
اس دل سے ہوائے کامرانی نہ گئی
ہے سنگِ مزار پر تیرا نام رواںؔ
مرکر بھی امیدِ زندگانی نہ گئی
حرص:- تمنا ، لالچ ،کامرانی: - کامیابی ،سنگِ مزار: - قبر پر رکھا گیا پتھر جس پر مرنے والے کا نام پتہ و تاریخ موت لکھی جاتی ہے
اس رباعی کے اشعار میں رواں ؔ انسان کا اس دنیا سے دل لگانے کی بات کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ یہ دنیا بھی کیا چیز ہے ایک انسان اس دنیا سے اس قدر دل لگاتا ہے جیسے اس دنیا کو کھبی چھوڑنا نہیں ہے انسان دنیا میں خواہشات کے بازار میں گم ہوجاتاہے وہ دنیا کی ہر چھوٹی بڑی چیز کو پانےکا خوہش مند رہتا ہے اور جب ایک انسان اس دنیا سے مرکےچلا جاتاہے اس کی قبر پر اس کا نام وپتہ تاریخ موت لکھی جاتی ہے جیسے یہ لگے اس مرے ہوئے انسان کواس دنیا میں مر کے دوبارہ واپس آنا ہےغرض انسان کی ساری تمنائیں نہ زندگی میں پوری ہوتی ہے نہ ہی مر کے پوری ہوتیں ہیں
(3)
کیا تم سے بتائیں عمر فانی کیا تھی
بچپن کیا چیز تھا جوانی کیا تھی
یہ گل کی مہک تھی وہ ہوا کا جھونکا
اک موجِ فضا تھی زندگانی کیا تھی
گل :- گلاب، مہک: - خوشبو
رواں ؔ اس رباعی میں انسان زندگی کی بے ثباتی کا حال بیا ن کرتے ہوئے فرماتےہیں کہ اے دنیا والوں میں تجھے گذرے زندگی کے ایام کے بارے میں کیا کہوں بچپن پھولوں کی مہک کی مانند ہے ہر سوں بہار ہی بہار لگتی ہے اور جوانی ہوا کے جھونکےکی طرح ہے کہ ایک طرف آیا کہ دوسر جانب گذر جاتا ہے انسان کی پوری زندگی ایک موج کے مانند ہے جو پل میں گذر جاتی ہے غرض انسانی زندگی ایک حسرت کے سیوا کچھ بھی تو نہیں
1۔فرہنگ
کلفت :- رنج ، تکلیف
حرص :- لالچ  ،تمنا ۔خواہش
ہوس :- لالچ
کامرانی :- کامیابی
سنگِ مزار : - سنگ تُر بت ، وہ پتھر جو قبرپر رکھا جاتا ہے
2۔پہلی رباعی میں ایک ساتھ دوخیالات بیان کئے گئے ہیں دنیا خوشی کے سامان سے لوگوں کوبہلاتی ہے لیکن فنا ہونے کی فکر سے ہر ایک سامان عیش میں کلفت نظر آنےلگتی ہے اور سامان خوشی سےروح گھبر انے لگتی ہے
" سنگ مزار" وہ پتھر ہے جس پر متوفی کا نام تاریخ وفات اورپتہ وغیرہ کندہ کروایا جاتا ہے اورمتوفی کی قبر پر رکھ دیا جاتا ہے دوسری رباعی میں شاعر نے ایک اچھوتا خیال پیدا کیا ہے کہ لوگ مرکر بھی زندہ رہنا چاہیے ہیں
سنگ مزار رکھے جاتے ہیں تاکہ مرنے والوں کے نام موجود رہیں مگر دینا اور دنیا کی ہر چیز فانی ہے
3۔سوالات
1۔ شاعر کو ہر بات میں کلفت کیوں نظر آتی ہے ؟
جواب : شاعرکو ہر بات میں رنج و غم اور کلفت اسی لئے نظر آتی ہے کیوں اب اسے شدت سے محسوس ہونے لگا کہ بچپن ، جوانی کے دن بھی بڑی تیزی کے ساتھ گذر گئے اب بوڑھاپےکے دہلیز پرشاعر نے قدم رکھ لیا ہے اب موت یقینی ہے
2۔ تیسری رباعی میں سے تشبیہیں تلاش کریں؟
جواب:بچپن کو گُل کی مہک سے، جوانی کو ہوا کے جھونکے سے اور زندگی کو موجِ فضا سے تشبیہیں دی گئیں ہیں
3۔ رواں ؔ اناوی کے بارے میں مختصر نوٹ لکھیے؟
 جگت موہن لال رواں(1737ء 1914ء)۔
جواب  حالاتِ زندگی : -
رواں ؔ کا اصلی نا م جگت موہن لال تھا اور رواںؔتخلص تھا اُناوہ میں مستقل سکونت اختیار کی اسی وجہ سے رواں اُناوی کے نام سے مشہو ر ہوئے آ پ کی پیدائش 14 جنوری 1889ء کو اُترپردیش میں ہوئی آپ کے والد صاحب کانام چودھری مُنشی گنگا پرشاد تھا نو سال کی عمر میں باپ کا سایہ سر سے اُٹھ گیا ۔ بڑے بھائی کنہیا لال کی سرپرستی میں تعلیم حاصل کی ۔ گریجویشن کے بعد ایم اے اور ایل ایل بی کی ڈگریاں حاصل کیں ۔ وکالت کا پیشہ اختیار کیا اور بہت کم عمری میں کافی شہرت پائی ۔1943ء میں جب کہ آپ کی عمر صرف پنتالیس برس کی تھی تو آپ اس جہاں فانی سے کوچ کر گئے
شاعری :-
رواں کو بچپن سے ہی شاعری کا شوق تھا آپ کے خاندان کےسبھی لوگ علم وادب سے گہری دلچسپی رکھتے تھے اسی لئے گھر کے موحول نے آپ کے اس شوق میں جِلا پیدا کی چنانچہ تعلیم کے ساتھ ساتھ آپ کی شاعرانہ قوت بڑھتی گئی 1904ء میں آپ عزیزلکھنوی شاگرد ہوئےمثنوی اوررباعی آپ کا خاص میدان تھا فلسفہ پڑھنے کی وجہ سے آ پ کے کلام میں فلسفیانہ خیالات ملتےہیں آپ کے کلام میں سلا ست ،جوش وخروش اور گہر ا تفکر ہےآپ نے نظم نگاری کی اس روایت کی بھی زندہ رکھنے کی کوشش کی جس کی ابتدا حالیؔ اور آزادؔ سے ہوئی تھی آپ کی رباعیات میں دنیا کی بے ثباتی کا موضوع چھایا رہا آپ کے کلام "روحِ رواں" کے نام سے پہلی مرتبہ 1928ء میں شائع ہوا جس میں ان کی نظمیں ، قطعات ۔غزلیں اور رباعیات شامل ہیں
5۔ رباعی پر نوٹ لکھے ؟
جواب :- رُباعی "ربع" سے مشتق ہے جس کے معنی "چار" کے ہیں لیکن اصطلاحی ادب میں رباعی سے مراد وہ شعری ہیئت ہے جوچارمصرعوں پر مبنی ہوتی ہے اورفکر وخیال کے لحاظ سے مکمل ہوتی ہے اس کا پہلا ،دوسرا، اورچھوتھا مصرعہ ہم قافیہ ہوتا ہے جبکہ تیسرا مصرعےکا قافیہ الگ ہوتا ہے کھبی چاروں مصرعے ہم قافیہ ہوتےہیں رباعی کا چھوتھا مصرعہ بہت بلند اورزوردار ہوتا ہے اوریہی مصرعہ رباعی کی جان کہلاتاہے قافیہ ،بحراور وزن کی پا بندی رباعی کےلئے بہت ضروری ہے رباعی کے چوبیس اوزان مقرر ہیں رباعی میں مضامین کی کوئی قید نہیں ہے رباعی کے ددسرے نام دوبیتی ، چہار بیتی اورترانہ کے ہیں
رباعی کی ابتدا ایران میں ہوئی اس کا موجد ایرانی شاعررودکیؔ کو سمجھا جاتا ہے اردو میں رباعی فارسی سے آئی اردو کا پہلا شاعرعبدالقادر کو مانا جاتا ہےاردو کے ہر چھوٹے بڑے شاعر نےرباعیاں لکھیں ہیں لیکن میر انیس اوردبیر نے اردورباعی کو بام ِعروج تک پہنچادیا
6۔ یہ کس قسم کےمرکبات ہیں
سامانِ خوشی، حرص وہوس ،حیات ِ فانی
جواب:۔
سامانِ خوشی۔۔۔۔ مرکب اضافی
حرص وہوس ۔۔۔۔مرکب عطفی
حیات ِ فانی ۔۔۔مرکب توصیفی




               

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے