رباعی ---------میر انیسؔ


  رباعی ---------میر انیسؔ
رباعی کیا ہے؟
جواب:- رُباعی "ربع" سے مشتق ہے جس کے معنی "چار" کے ہیں لیکن اصطلاحی ادب میں رباعی سے مرادوہ شعری ہیئت ہے جوچار مصرعوں پرمبنی ہوتی ہے اورفکر وخیال کے لحاظ سے مکمل ہوتی ہےاس کا پہلا ،دوسرا،اورچھوتھا مصرعہ ہم قافیہ ہوتا ہے جبکہ تیسرا مصرعےکا قافیہ الگ ہوتا ہے کھبی چاروں مصرعے ہم قافیہ ہوتےہیں رباعی کا چھوتھا مصرعہ بہت بلند اورزوردارہوتا ہے اوریہی مصرعہ رباعی کی جان کہلاتاہے قافیہ ،بحراور وزن کی پا بندی رباعی کےلئے بہت ضروری ہے رباعی کے چوبیس اوزان مقرر ہیں رباعی میں مضامین کی کوئی قید نہیں ہے رباعی کے ددسرے نام دوبیتی ، چہار بیتی اورترانہ کے ہیں
رباعی کی ابتدا ایران میں ہوئی اس کا موجد ایرانی شاعررودکیؔ کوسمجھاجاتا ہے اردومیں رباعی فارسی سےآئی اردوکا پہلا شاعرعبدالقادکوماناجاتا ہےاردوکےہر چھوٹے بڑےشاعرنےرباعیاں لکھیں ہیں لیکن میرانیس اوردبیر نےاردورباعی کو بام ِعروج تک پہنچادیا
سوال:میرببرعلی انیسؔ کی حیات اورشاعری پر ایک نوٹ لکھیے ؟


جواب: حیات: -
اردو کے عظیم مرثیہ گو شاعرواردو رباعی کے استاد میر ببرعلی انیسؔ1804ء ،میں فیض آباد میں تولد ہوئےآپ کا اصلی نام میر ببر علی تھا پہلے حزین ؔ لیکن بعد میں انیس ؔ تخلص اختیار کیا آپ کے والد محترم کا اسمی گرامی میر خلیقؔ تھا دادا میر حسنؔ اورپردادا میرحسن ضاحکؔ تھااس طرح میرانیس ؔپشتنی شاعر تھے ابتدائی تعلیم مولوی حیدر علی سے حاصل کی اوراپنی والدہ سے بھی آپ نے خوب اچھی تعلیم وتربیت پائی مروجہ علوم کے ساتھ آپ نے گھوڑا سواری ، فنِ سپہ گری اور شمشیر زنی میں بھی کمال حاصل کیا۔ آخری عمرمیں فیض آباد سے لکھنو چلے آئے ہندوستان کے کئی شہروں کا سفر کیاجن میں عظیم آباد ،بنارس، حیدرآباد ،الہ آباد وغیرہ قابل ذکر ہیں جہاں جہاں آپ تشریف لے گے لوگوں نے خوب عزت کی ۔ عمر کے آخری ایام میں آپ کئی مہلک بیماروں کے شکار ہوگے خوب علاج ومعالجہ کروایا لیکن کچھ کام نہ آیا ۔ بالآخر10دسمبر 1874 کو آپ اپنے حقیقی مالک سے جا ملے
شاعری:-
بچپن کے دنوں سے شعرگوئی کی طرف رجحان تھا شاعری میں کمال درجہ حاصل کیا آپ اردو مرثیہ نگاری کے امام وپیشواتصورکئےجاتے ہیں شاعر ی کا آغاز صنف غزل سےکیا لیکن جلدی ہی اپنا محبوب صنف مرثیہ نگاری کو چن لیا ہمیشہ واقعیت اور اصلیت کو مد نظر رکھا ہے لفظوں کے انتخاب اوراستعمال میں آج تک ان کا دوجا ثانی پیدا نہ ہوسکا۔ آپ کے کلام میں فضاحت ،سلاست ،نازک خیالی اورسادگی ہے مرثیہ کے علاوہ رباعی کہنے میں بھی کمال درجہ حاصل تھا
رباعی
(1)
رتبہ جسے دنیا میں خدا دیتا ہے
وہ دِل فروتنی کو جا دیتا ہے
کرتے ہیں تہی مغز ثنا آپ اپنی
جو ظرف کہ خالی ہے صدادیتا ہے
فروتنی :- عاجزی ، انکساری ،تہی مغز: - بے وقوف ،احمق ، ظرف :- برتن
میرانیسؔ رباعی کےان اشعارمیں ایک حقیقت بیان کرتےہوئےفرماتےہیں کہ رُب العزت جس بندے کو دنیا میں اعلیٰ مقام عطا کر تاہےاگروہ انسان اخلاقاََ ،ادباََ اچھا ہے تو اس کے دل میں قدرتی طورپرنرمی،عاجزی وانکساری پیداہوجاتی ہےجس طر ح ایک پھلدار درخت کی شاخیں زیادہ پھل وپھول لگنے سے نیچے جھکتی ہیں اس طرح ایک اعلی خصلتاََ انسان میں نرمی آجاتی ہے مگر دوسری طرف جب ایک احمق انسان کا رتبہ ومقام اونچا ہوجاتاہےوہ اپنی ہی شان وشو کت کے گیت گانے لگتا ہے جس طرح ایک خالی برتن میں آوازیں پیدا ہوجاتی ہے جبکہ پُربھرے ہوے برتن میں کوئی آواز پیدا نہیں ہوتی ہے
(2)
ماں باپ سے بھی سوا ہے شفقت تیری
افزوں ہے تیرے غضب سے رحمت تیری
جنت انعام کر کہ دوزخ میں جلا
وہ رحم تیرا ہے یہ عدالت تیری
افزوں :- زیادہ
میر انیسؔ اس رباعی میں فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ایک ماں باپ سےبھی زیادہ بندے سےشفقت و الفت رکھتا ہے اللہ کی رحمت ،اللہ کے غضب سے زیادہ ہےاللہ نیک کاموں پر جنت انعام کے طوردے گا جبکہ برے کاموں کےبدلے جہنم دے گا یہی اللہ کی رحمت و حقیقی عدالت وانصاف ہوگا
(3)
آغوش لحد میں جب کہ سونا ہوگا
جُز خاک نہ تکیہ نہ نچھونا ہوگا
تنہائی میں آہ کون ہووے گا انیسؔ
ہم ہوں گے اور قبر کا کونا ہوگا
رباعی کے ان اشعار میں انیسؔ نے ایک تلخ حقیقت کو بیان کیا ہے فرماتےہیں کہ جب ہماری موت واقع ہوجا ئےگی توقبر کی لحد میں رکھ کر جب دفنایا جائے گا تو قبر میں میر ا کوئی ساتھی ومددگار نہ ہوگا وہاں صرف مٹی ہی مٹی و تنہائی ہوگی وہاں نہ سونےکے لئے بچھونااور نہ تکیہ ہوگا وہاں صرف ہم اور قبر کو کونا ہوگا
درسی سوالات
سوال: دنیا میں کون لوگ نرمی اورتواضع اختیار کرتے ہیں؟
جواب: دنیا میں وہی لوگ نرمی اورتواضع اختیار کرتےہیں جنھیں ربُ العزت نے ایسا ظرف وقلب عطا کیاہے وہ کوئی بھی مقام و مرتبہ یہاں تک ایک گھاس کا تنکا ملے پر بھی خالق وعرض و سماں کی تعریفیں بجالاتےہیں وہ اعلیٰ ہوکر بھی خود کو ادنیٰ ہی سمجھتے ہیں
2۔ دوسری رباعی کا خلاصہ اپنے الفاظ میں لکھیے؟
یہ رباعی میر انیسؔ کی لکھی ہوئی ہےاس رباعی میں انیس فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ایک ماں باپ سے بھی زیادہ رفیق وشفیق ہے اللہ کی رحمت ،اللہ کےغضب سے بڑی ہے اللہ اپنے نیک بندوں کو ان کے نیک کاموں پرجنت عطا کرے گا اور برے لوگوں کو ان کے برے کاموں کےعوض جہنم دے گا یہی اللہ تعالی کا حقیقی کرم اورعدل ہوگا
3۔ شاعر کا حوالہ دےکر ان اشعار کی وضاحت کریں
آغوش لحد میں جب کہ سونا ہوگا
جُز خاک نہ تکیہ نہ نچھونا ہوگا
تنہائی میں آہ کون ہووے گا انیسؔ
ہم ہوں گے اور قبر کا کونا ہوگا
رباعی کے ان اشعار میں انیسؔ نے ایک تلخ حقیقت کو بیان کیا ہے فرماتےہیں کہ جب ہماری موت واقع ہوجا ئےگی تو  قبر کی لحد میں رکھ کر جب دفنایا جائے گا توقبر میں میر ا کوئی ساتھی ومددگارنہ ہوگا وہاں صرف مٹی ہی مٹی و تنہائی ہوگی وہاں نہ سونےکے لئے بچھونا اور نہ تکیہ ہوگا وہاں صرف ہم اور قبر کو کونا ہوگا
4۔ میر انیس کی شاعری کے بارے میں مختصر نوٹ لکھیے؟
جواب: شا عری:۔
بچپن کے دنوں سے شعرگوئی کی طرف رجحان تھاشاعری میں کمال درجہ حاصل کیا آپ اردو مرثیہ نگاری کے امام وپیشوا تصورکئےجاتے ہیں شاعر ی کا آغاز صنف غزل سےکیا لیکن جلدی ہی اپنا محبوب صنف مرثیہ نگاری کو چن لیا ہمیشہ واقعیت اور اصلیت کو مد نظر رکھا ہے لفظوں کے انتخاب اوراستعمال میں آج تک ان کا دوجا ثانی پیدا نہ ہوسکا آپ کے کلام میں فضاحت ،سلاست ،نازک خیالی اورسادگی ہے مرثیہ کے علاوہ رباعی کہنے میں بھی کمال درجہ حاصل تھا





  

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے