مرزا محمد یٰسین بیگ(2008-1943ء)۔۔ شکستِ انتظار
شکست ِانتظار
گلی کے موڑ پہ مسجد کے اس مینار
خزان رسیدہ چناروں کے زرد رُو پتے
خزاں رسیدہ :- بے رونق ،پُرانا ، زرد رُو: - جس کا چہرہ پیلا ہو
اس نظم کے پہلے شعر میں مرزا محمد یٰسین بیگ فرماتےہیں جب کشمیر میں موسمِ خزاں کا موسم آتا ہے اوراس موسم میں چنار کے درخت کے پتے زرد ہوکر نیچے گر جاتے ہیں شاعر اس منظرکو بیا ن کرتاہے کہ میرے گھر کی گلی کے سامنے موڑ کے نزدیک ایک مسجد ہے اس مسجدکے مینار کےتلے بوسیدہ چناروں کے زرد پتے گرکرپڑے ہوئے ہیں
چراغ راہ کی مانند ، صبح وشام جلے
کہر میں لپٹی ہوئی ملگجی فضاؤں میں
کہر:- دُھند ، ملگجی :- کچھ اُجلی کچھ میلی فضا ، گرد وغبار سے آلود میلی فضا
محمد یٰسین بیگ اس نظم ' شکست ِ انتظار" کے اس شعر میں چنار کے پتوں کوچراغ سے تشبیہ دیتا ہے فرماتےہیں کہ جس طرح راستےکا چراغ راہ گیروں کو راہ اور منزل تک پہنچنے میں مدد دیتا ہےبا لکل اسی طرح راہ پرگرے پڑے چنار کے سرخ زردپتےجیسے جل کر چراغ راہ کا کام دے دیتے ہیں دوسری طرف یہ لمبے لمبے چنار کے درخت دھند اور گردوغبار فضا میں گرے ہوئے ہیں
نظر نواز نظاروں کے داغ تک نہ ملے
سیاہ رات کے دامن سے تیرگی نہ چھٹی
نظر نواز: - سرفراز کرنے والا ، تیرگی : - اندھیرا
بیگ اس نظم کےشعرمیں ارشاد فرماتےہیں کہ ہر طرف تاریکی پھیلی ہوئی ہے اورکئی طرح سےروشنی کی جھلک دکھائی نہیں دیتی ہے یعنی شاعر یہ بتانےکی کوشش کرتاہے کہ میرے وطنِ عزیز میں ناامیدی اوراداسی ہر طرف چھائی ہوئی ہے اور اس کے ٹل جانےکا کوئی سراغ دکھائی نہیں دیتا ہے
فلک پہ جلتے ستاروں کے داغ تک نہ ملے
گلی کے موڑ پہ ا س سامنے کی کھڑکی میں
فلک :- آسماں
بیگ اس نظم کے شعر میں فرماتےہیں کہ مجھ پہ غموں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے ہیں کہ اس درو آسمان کو بھی ہمارے غموں نے آگیر لیاہےجس کی وجہ سے ان ٹمٹماٹے ستاروں کی بھی روشنی ماند پڑگئی ہے اور وہ بھی اب نظر نہیں آرہے ہیں
وہ قیس منتظر و بے قرار بیٹھا ہے
نظر نظر میں شراروں کا اضطراب لیے
قیس:- لیلیٰ کا عاشق ،شرارہ : - چنگاری ، اضطراب :- بےچینی
اس شعرمیں بیگ ارشاد فرماتے ہیں کہ لیلیٰ کا عاشق بے قرار بیٹھا ہوا ہے اوراس کی ہر نظرمیں بے چینی کی چنگاری پیداہوئی ہے
دھڑکتے دل سے سررہ گزر بیٹھا ہے
اسے خبر نہیں شاید کہ محمل لیلیٰ
محمل :- کجاوہ ،اونٹ پر بنایا گیا ہووج ،ڈولی
اس شعرمیں مرزا یٰسین بیگ ارشاد ہوکر فرماتےہیں کہ لیلیٰ کےعاشق کو امید ہے کہ لیلیٰ کاگذر اُس کے کوچے سے ہوکر ہی رہے گا اور وہ اُ س کا دیدار کر کےہی دم لے گا کہتے ہیں دنیا امید پر قائم ہے
3۔سوالات
1۔مرزا محمد یٰسین بیگ کی حیات اور شعری خدمات پر ایک مختصر نوٹ تحریر کیجیے؟
حالاتِ زندگی: -
مرزامحمد یٰسین بیگ کی پیدائش جموں میں1943ء میں ہوئی۔گریجویشن کےبعد جموں وکشمیر اکادمی آف آرٹ کلچر اینڈ لنگویجزمیں لائبریرین کی حیثیت سے ملازم ہوئےعلی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے بی لب کا امتحان پاس کیا اس کے بعد جموں وکشمیر کے مختلف محکموں میں کام کرتے رہےُ خا ص طور پرآپ نے ڈی سی اننت ناگ ، ایڈیشنل ڈی سی جموں و ایکسائز کے اعلی ٰعہدوں پر اپنے فرائض انجام دیتے رہے آپ سپیشل سیکریٹری ٹو گورنمنٹ کے اعلیٰ ترین عہدے سے سبکداش ہوئے آپ ک انتقال جموں میں 2008 کو ہوا
شاعری :-
مرزا محمد حسین بیگ نے اپنی شاعری کا آغاز کالج کے زمانے سےہی کیا ۔کلچرل اکادمی کی ملازمت کے دوران آپ کی غزلوں کا پہلا مجموعہ "شاخِ صنوبرکے تلے" 1962ء میں شائع ہوا دوسرا نظموں کا مجموعہ "دہر آشوب"لے عنوان سے 1991ء میں شائع ہوا آپ نے ہر اصناف سخن میں طبع آزمائی کی تاہم ان کی مقبولیت صنف ِ نظم میں نکھر کر آئی۔ نظموں میں عصری مسائل کی بھر پور ترجمانی کی گئی ہے جو پڑھنے والے کو کافی متاثر کر کے چھوڑتی ہےغزلوں کا موضوع حسن وعشق رہا ہے ڈدگری وپنجابی میں بھی شعر کہے ڈدگری میں ایک نظم "شندامرت " چھپ چکی ہے الغرض مختلف زبانوں کے سنگم نے آپ کی تحریر کو رنگین اوردلکش بنا دیا ہے
2۔ نظم "شکستِ انتظار" میں کس طرح کی ذہنی کیفیت کی تصویرکشی کی گئی ہے؟
جواب:-اس نظم میں ایسی ذہنی کیفیت کی تصویر کشی کی گئ ہےجو ناامیدی اوربے بسی کے عالم میں حیران وپریشان ہے اور اپنے مقصد کےحصول میں ٹوٹی امید لئے بیٹھاہے
3۔ کھڑکی میں بیٹھے ہوئے قیس اور محمل لیلےٰ سے شاعر کی کیا مُراد ہے ؟
جواب :۔ کھڑکی میں بیٹھے ہوئے قیس سےمراد دور حاضر کے وہ نوجوان ہے جو آج کے دور میں بے روز گاری کے شکار ہیں اور محمل لیلیٰ سے مُراد وہ ذریعہ معاش ہے جو اطمینان اور خوشحال زندگی کےلئے لازمی سمجھا گیاہے



0 تبصرے